![]() |
| سمیع اللہ، امتیازخان، فہیم زادہ ، ریاض حسین، کفایت اللہ ، |
پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ " صفائی نصف ایمان ہے " ۔اس کا واضح مطلب یہ
ہےکہ گندگی پھیلا نا آدھے کفر کی مانند ہے۔لہٰذا یہ ہر
انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے آپ کی صفائی کا خیال رکھے بلکہ
اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی صاف
رکھیں۔
ھمارا گاؤں پہلے چھوٹا ہوا کرتا تھا لیکن پچھلے کئی سالو
ں میں ، آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ
سے مسا ئل میں اضافہ ہو رہا ہےاور صفائی کی صورتحال ابتر ہوتھی جا
رہی ہے ۔ پہلے جب کوئی اپنے لئے گھر بناتھا تو وہ (ڈھیران) زمین کا کچھ حصہ کوڑےکرکٹ کیلئے ضرور چھوڑتا
گو کہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو وہ ھم سے
زیادہ تہذیب و تمدن سے آشنا تھے۔ یہی وجہ ہےکہ آج ہمارے آبی نالےجس میں کبھی صاف پانی بہتا تھا آج ہماری غفلت کی وجہ سے
گندگی کے ڈھیر بن گئیں ہیں ۔ ڈھیران
نہ بنانے
کی وجہ سے آج ھمارے گلیاں اور نالے
ڈھیرانوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ یہ
تو شکر ہے کہ بارش کی وجہ سے تھوڑی بہت
صفائی ہو جاتی ہے ورنہ تو اپنے گلیاں صاف
کرنا ہمیں ایک گناہ لگتا ہے۔
کوز چم کے آبی نالے
(ولہ) میں تو ہاتھ دھونا بھی محال ہو گیا
ہے کیونکہ لوگوں نے اپنے لیٹرین کے گندے پانی
کے پائپ اور فضلہ اس میں چھوڑ رکھا ہے۔
جبکہ (بر کلے ) روڈ سے اوپر کا
سارا گنداپانی اس میں آکر بہتا ہے ۔
مسجد والا ولہ مسجد تک
کافی صاف ہے لیکں اس سے آگے تو اس کا برا حال ہے ۔
دوسرا بڑا غضب یہ ہے کہ بارش کے دوران اوپر گاؤں
سےاتنا سارا ملبہ بہہ جاتا ہے
کی فضل خالق کے دکان سے لیکر نیچے نالے تک سارا راستہ ملبے سے بھر جاتا ہے لیکں افسوس سے کہنا پڑہ رہا
ہے کہ ہمارے گاؤں کے صاحب حیثیت لوگ اسکا
کو ئی حل نہیں نکالتے ۔
ھم اور آ پ سالوں سے گندگی کے اس بڑھتے ہوئے رفتا ر کو دیکھ
رہے ہیں ۔ لیکن کوئی خدا کا بندہ اس پر سوچھنے کی زحمت نہیں کرتا ۔ کیا ہم اپنے
آنے والے نسلوں کو ایک گندہ فتح پور ورثے
میں چھوڑنا چاہ رہے ہیں ۔
یقین کرو گزشتہ روز فیس بک پر ایک تصویر دیکھی ۔ جس میں ا پنے گاؤں
کے کچھ نوجوانوں کو جاڑو
اٹھائے گلیوں کی صفائی کر تے دیکھا ۔ یقیناْ وہ اس اقدام پر شاباش کے قابل ہیں اور مجھے تو بہت رشک آیا ، کہ
ہم نے ایسا کام کیو ں نہیں کیا ۔کاش میں گاؤں میں ہوتا اور ان کے ساتھ صفائی کے اس
مہم میں شریک ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔!
رکھیں رکھیں ۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں نے
سوچھا کہ کس طرح ہم اپنے گاؤں کو صاف ستھرا
ذیل میں کچھ تجاویز
عرض ہے ۔
1)ایک یہ کہ صفائی کے اس مہم کو تسلسل دیا جائےاور مزید
نوجوانوں کو اس میں شامل کرکے ایک مشغلہ اور کلچر بنا دیا جائے۔
2) مسجدوں میں
لوگوں سے اس بارے بات کی جائےتاکہ اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا ہوجائے۔امام
مسجد کو پیغام پہنچا جائےکہ وہ جمعہ کے خطبہ میں گاؤں کے صفائی کے مسائل بارے
بحث کریں ۔ تا کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گلی کوچوں کو صاف رکھنے کی
کوشیش کریں ۔
3) اس آگاہی مہم میں پمفلٹ لکھیں اور تقسیم کئے
جائے۔ اور جو نوجوان اس مہم میں شریک ہوں، ان کیلئے سرٹیفیکیٹ کا اہتمام کیا جائے۔
3) مالی وسائل کیلئے گاؤں کے
مخیر حضرات سے چندہ اکھٹا کیا جائے۔
تحریر
نثاراحمد ، 
Comments
Post a Comment