وقار احمد کے قلم سے....
فرض کریں فیس بک سکرول کرتے ہوتے اک خبر سامنے اگئی کہ “لاہور میں اک ہی خاندان کے ۱۴ افراد شہید” یا چلیں اسان کر لیتے ہے کہ “مری میں سیاحوں نے ۱۴ بندر مار دئیں”۔ ایمان سے بتائیں کیا ریکشن ہوگا اپکا؟ یہی نا کہ اپ شئر کرلینگے۔ قاتلوں پہ لعنت کرینگے۔ حکومت سے انصاف کی اپیل کرینگے۔ اگلے اسمبلی اجلاس میں اس پہ بحث بھی ہوجائگا۔ (قاتل پھر بھی ویسے پکڑے نہیں جائینگے) لیکن دو تین دن کے لئے میڈیا اور عوام انصاف کے لئے اسے اک ھاٹ ٹاپک بنالینگے۔
اب اتے ھے اصل بات کے جانب۔ایک ھی خاندان کے ۱۴ بندے ۱۴ اگست کو کراچی میں مارے جاچکے ھیں۔ لیکن چونکہ وہ غریب سوات کے تھے تو ھاٹ ٹاپک نہ بنا سکے۔ (شاید اپ میں سے کچھ لوگوں کو پتہ بھی ہوں) مجھے اک احتجاجی مظاہرے کے وساطت سے لیٹ پتہ چلا۔ ھیش ٹیگ کو میں نے سرچ کرلیا تو سوات کے کچھ لوکل پیجز کے علاوہ کسی بھی قومی پیج نے شیئر نہیں کیا ھے۔ نہ یہ کوئی ہاٹ ٹاپک بنا ھے۔ سنا ھے لوکل ایم پی ایز ایم این ایز نے فیملی سے اظہار ھمدردی کی ھے لیکن میرا نہیں خیال کہ اس پہ ائندہ اجلاس میں دو منٹ بات بھی ہوجائیگی۔ کیونکہ اک تو یہ فیملی بڑے شہر کی نہیں ھے دوسرا جو موصوف کہا کرتا تھا کہ جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہوں اس کا قاتل ریاست ہوتا ھے۔ اب اُن کا حکومت ھے اور اب شاید ایسا نہ ہوں۔ میں بھی صرف اس لئے لکھ رھا ھوں کہ بقول پروین شاکر کے
“ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھرا”
“خامشی بھی تو ہوئی پشت پناھی کیطرح”
خدا کے لئے ظلم کے خلاف اواز اٹھایا کروں خوا وہ تھرپارکر کے صحراوں میں ہوا ہوں، لاھور اور کراچی کے شہروں میں یا سوات کے سبزہ زاروں میں- کہ مظلوم ظلم سے نہیں مرتا بلکہ اس پر ہونے والے ظلم پر انصاف نہ ملنے پہ مرجاتا ھے۔
تحریر کی دم: وزیر اعلی کے پی نے پورے چھ دن بعد واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی سندھ کو کال کر کے قوم پہ احسان کیا ھے۔ یاد رہے کہ وزر اعلی صیب امیر مقام کے فیملی سے ملنے کے بعد جاگ گئے۔ دیر اید درست اید۔ کال کرلیا معاملہ ختم۔
#Justice_for_Farman_and_family
#waqariat
وقار احمد نویکلے.....
Comments
Post a Comment