Skip to main content

Posts

Showing posts from November, 2014

حسین و جمیل تفریحی مقام باغ ڈھیرئ و

شین سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر آگے بڑھئے تو ایک اور نہایت حسین و جمیل تفریحی مقام باغ ڈھیرئ واقع ہے۔ جو سیاحوں کے لئے نہایت پرکشش اورجاذبیت کا حامل ہے۔ یہاں دریائے سوات انتہائی زور و شور کے ساتھ جھاگ اُڑاتا ہوا بہ رہا ہے۔ باغ ڈھیرئی میں   سیاحوں کے لئے تفریحی سہولتیں اور دلچسپیاں موجود ہیں۔ دریا کے اُوپر بنائے گئے کننگھم پُل سے قرب و جوار کے نظارے بے حد طمانیت اورمسرت کاباعث بنتے ہیں۔ یہ پل سرجارج کننگھم کے نام سے موسوم ہے۔ وادئ سوات کا یہ گوشہ بہت پُرسکون ہے اور شہری زندگی کی آلائشوں اور ہنگاموں سے تھکے ہوئے لوگوں کے لئے نہایت سکون بخش ہے۔یہاں دو خوب صورت ہوٹل ہیں جن میں سیاحوں کے لئے جدید سیاحتی سہولتیں موجود ہیں۔ یہاں دریائے سوات کے کنارے کیمپنگ کی جا سکتی ہے اور محکمۂ ماہی پروری کے متعلقہ اہلکاروں سے اجازت لے کر یہاں مچھلی کا شکار بھی کیا جا سکتا ہے۔ باغ ڈھیرئ سے قریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فتح پورنامی ایک اور دل کش مقام آتا ہے جہاں کے مختصر بازارمیں سیاحوں کے لئے بنیادی سیاحتی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یہ دل کش گاؤں دریائے سوات کے عین کنارے آباد ہونے کی وجہ سے نہایت خوب...

صفائی نصف ایمان ہے

سمیع اللہ، امتیازخان، فہیم زادہ ، ریاض حسین، کفایت اللہ ، پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ " صفائی  نصف ایمان ہے " ۔اس کا واضح مطلب یہ ہےکہ  گندگی پھیلا نا آدھے  کفر کی  مانند ہے۔لہٰذا    یہ ہر انسان کا  فرض بنتا ہے کہ وہ  نہ صرف اپنے آپ کی صفائی کا خیال رکھے بلکہ اپنے   اردگرد کے ماحول کو بھی صاف رکھیں۔  ھمارا گاؤں پہلے چھوٹا ہوا کرتا تھا لیکن پچھلے کئی سالو ں  میں ، آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے  مسا ئل میں اضافہ  ہو رہا ہےاور صفائی کی صورتحال ابتر ہوتھی جا رہی ہے ۔  پہلے جب کوئی اپنے لئے  گھر بناتھا تو وہ        (ڈھیران)        زمین کا کچھ حصہ کوڑےکرکٹ کیلئے  ضرور  چھوڑتا    گو کہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو وہ ھم سے زیادہ تہذیب و تمدن سے آشنا تھے۔ یہی وجہ ہےکہ آج ہمارے آبی نالےجس میں کبھی  صاف پانی بہتا تھا آج ہماری غفلت کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر  بن گئیں ہیں ۔ ڈھیرا...

باغڈھیری چوک

باغڈھیری چوک ایک وقت میں کھیل کود کیلئے بہت مشہور تھا ۔   آج بھی گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں بڑا گراونڈ ھونے کے ناطے عصر کے وقت نوجوانو ں کی کثیر تعداد کھیل کود   کیلئے      آتی ہیں ۔یہاں کرکٹ ا،فٹبال اور ہاکی کے ٹورنامنٹ کا انعقاد لوگوں کیلئے ایک بڑے تفریح کا باعث ہے ۔ لیکن وقت کیساتھ کیساتھ اب یہا ں تجارتی سر گرمیا ں بھی عروج کو پہنچ گئی ہیں۔دن دگنی رات چوگنی   کاروباری سرگرمیا ں فروغ پا   رہی ہے۔اور دور دراز سے لوگ سودا کیلئے یہاں کا رخ کرتے ہیں   چوک کا ایک منظر Bagh Dheri Road near Bridge  دور سے لی گئی ، سیکنڈری سکول کا خوبصورت عمارت     عصر کے وقت کا ایک منظر  

شوبلے خوڑگئے کے مقام پر فلائینگ کوچ کو آگ لگ گئی

فتح پور اور باغڈھیرئی کے درمیان   شوبلے خوڑگئے کے مقام پر  فلائینگ کوچ کو آگ لگ گئی ۔۔ فلائینگ کوچ میں  مینگورہ  سے سیروسیاحت کیلئےمسافر سوار تھے۔پیٹرول ٹینکی میں سوراخ ہو نے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو یہ جگہ ہمیشہ سے بہت منحوس پایا گیا ہے۔ بڑے خطرناک  حادثات یہاں رونما ہوئے ہیں۔ لہٌذا یہاں احتیاط لازمی ہے۔

فتح پور بازار کی سب سے مصروف ترین مقام

یہ ہے وہ جگہ جہاں آپکو ہر وقت کوئی نہ کوئی بندہ ضرور ملے گا۔۔رات گئے تک یہاں  خوب محفلیں جم تھی ہیں۔ٹیکسی ڈرائیور وں  کا تو یہ مستقل ٹھکانہ بن گیا ہے۔ذیل میں  کچھ تصوریں ملاحظہ فرمایئے۔۔۔اس جگہ سے متعلق اگر آپ کے پاس کوئی لطیفہ یا ،یا داشت موجود د ہو تو ہمارے ساتھ ضرور شئیر کریں۔۔۔۔ہم اسی صفحے پر اسے  تحریر  یا تصور کی شکل میں پیش  کریں گے۔  

فتحپور پر بنائی گئی خوبصورت ڈاکومینٹری

********فتحپور پر بنائی گئی خوبصورت ڈاکومینٹری٭٭٭  اس ڈاکومینٹری میں گاؤں کے مختلف  مسائل پر گفتگو ہوئی ہے اور اس کے ساتھ  ساتھ گاؤں کے ثقافت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔    اہلیان فتحپورخیبر نیوز کی اس کاوش پر انتہائی شکریہ ادا کرتی ہے ۔ DISTRICT DIARIES SWAT ( EP # 112 - 27-08-2014 ) by khybernews

جناب سعید صاحب کی وفات کا سن کر انتہائی دکھ ہوا۔

جناب سعید صاحب کی وفات کا سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ سوچھتا رہا کہ ان کی عمر تو ابھی رخصت ہونے کی نہیں تھی ،نجانے کیا ہوا جو یوں ہمیں اچانک چھوڑ گئے۔  سعید صا حب ایک ایسی شخصیت تھے جو ہمیشہ ہنستے مسکراتے ۔ انکا سب سے بڑاپن یہ تھا کہ وہ دسروں  کو حد سے زیادہ زیادہ عزت دیا کرتے تھے اورزندگی بھر میں نے ان سے کبھی گفتگو میں ترش لفظ نہیں سنا ۔ یقین کرو آج فیس بک پر انکی ایک تصویر کو دیکھتا رہا اور سوچھتا رہا کہ کیوں اچھے لوگ دنیا کو اتنا جلدی الوداع کہہ جاتے ہیں ۔ بس اب تو صرف انکے لئے دعا ہی دل سے نکلتی ہے کہ اے اللہ اسے جنت میں ڈیڑ ہ سارے خوشیا ں عطا فرماء۔۔۔۔ نثار احمد

سیراج الدین بھائی ، انتقال کر گئے

ایک اور شباب ،میرا دوست ، سراج الدین بھائی رخصت ہوگئے۔گزشتہ رمضان میں جب ہم بہت عرصہ بعد گاؤں میں ملے،تو چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچ گئے۔بچپن سے لیکرجوانی تک کے سارے  یادوں پر لب کشائی ہوئی۔شاید  وہ مجھےالوداع کہنے کی کوشیش کررہا تھا ۔ سراج الدین پچھلےسال  پردیس میں شدید بیمار پڑہ گئےتھے۔گاؤں آکر علاج کیا اور کافی صحت یاب ہوکر واپس پردیس چلے گئے۔اچانک ہرٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال ہوگیا ۔ یقینا'  ایک جوان کی موت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔اور لواحقین کیلئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہےلیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جسد خاکی کل (ہفتہ)ریاض سےپاکستان  پہنچ جائےگی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی  لواحقین کو صبرجمیل عطافرمایں ، اور سراج بھائی کو جنت من اعلی مقام عطافرمایں۔۔۔۔۔آمین (نثاراحمد)